7 اشعار

گلوں کو سننا ذرا تم صدائیں بھیجی ہیں

Gulon ko sunna zara tum sada.en bheji hain

گلوں کو سننا ذرا تم صدائیں بھیجی ہیں

«گلوں کو سننا ذرا تم صدائیں بھیجی ہیں» گلزار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

گلوں کو سننا ذرا تم صدائیں بھیجی ہیںگلوں کے ہاتھ بہت سی دعائیں بھیجی ہیں

جو آفتاب کبھی بھی غروب ہوتا نہیںہمارا دل ہے اسی کی شعاعیں بھیجی ہیں

اگر جلائے تمہیں بھی شفا ملے شایداک ایسے درد کی تم کو شعاعیں بھیجی ہیں

تمہاری خشک سی آنکھیں بھلی نہیں لگتیںوہ ساری چیزیں جو تم کو رلائیں، بھیجی ہیں

سیاہ رنگ چمکتی ہوئی کناری ہےپہن لو اچھی لگیں گی گھٹائیں بھیجی ہیں

تمہارے خواب سے ہر شب لپٹ کے سوتے ہیںسزائیں بھیج دو ہم نے خطائیں بھیجی ہیں

اکیلا پتا ہوا میں بہت بلند اڑازمیں سے پاؤں اٹھاؤ ہوائیں بھیجی ہیں

— گلزار