6 اشعار

ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے

Haath chhooTen bhi to rishte nahin chhoRa karte

ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے

«ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے» گلزار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتےوقت کی شاخ سے لمحے نہیں توڑا کرتے

جس کی آواز میں سلوٹ ہو نگاہوں میں شکنایسی تصویر کے ٹکڑے نہیں جوڑا کرتے

لگ کے ساحل سے جو بہتا ہے اسے بہنے دوایسے دریا کا کبھی رخ نہیں موڑا کرتے

جاگنے پر بھی نہیں آنکھ سے گرتیں کرچیںاس طرح خوابوں سے آنکھیں نہیں پھوڑا کرتے

شہد جینے کا ملا کرتا ہے تھوڑا تھوڑاجانے والوں کے لیے دل نہیں تھوڑا کرتے

جا کے کہسار سے سر مارو کہ آواز تو ہوخستہ دیواروں سے ماتھا نہیں پھوڑا کرتے

— گلزار