7 اشعار

جب بھی آنکھوں میں اشک بھر آئے

Jab bhi aankhon mein ashk bhar aa.e

جب بھی آنکھوں میں اشک بھر آئے

«جب بھی آنکھوں میں اشک بھر آئے» گلزار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

جب بھی آنکھوں میں اشک بھر آئےلوگ کچھ ڈوبتے نظر آئے

اپنا محور بدل چکی تھی زمیںہم خلا سے جو لوٹ کر آئے

چاند جتنے بھی گم ہوئے شب کےسب کے الزام میرے سر آئے

چند لمحے جو لوٹ کر آئےرات کے آخری پہر آئے

ایک گولی گئی تھی سوئے فلکاک پرندے کے بال و پر آئے

کچھ چراغوں کی سانس ٹوٹ گئیکچھ بہ مشکل دم سحر آئے

مجھ کو اپنا پتا ٹھکانہ ملےوہ بھی اک بار میرے گھر آئے

— گلزار