6 اشعار

کانچ کے پیچھے چاند بھی تھا اور کانچ کے اوپر کائی بھی

Kaanch ke pichhe chand bhi tha aur kaanch ke upar kaai bhi

کانچ کے پیچھے چاند بھی تھا اور کانچ کے اوپر کائی بھی

«کانچ کے پیچھے چاند بھی تھا اور کانچ کے اوپر کائی بھی» گلزار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

کانچ کے پیچھے چاند بھی تھا اور کانچ کے اوپر کائی بھیتینوں تھے ہم وہ بھی تھے اور میں بھی تھا تنہائی بھی

یادوں کی بوچھاروں سے جب پلکیں بھیگنے لگتی ہیںسوندھی سوندھی لگتی ہے تب ماضی کی رسوائی بھی

دو دو شکلیں دکھتی ہیں اس بہکے سے آئینے میںمیرے ساتھ چلا آیا ہے آپ کا اک سودائی بھی

کتنی جلدی میلی کرتا ہے پوشاکیں روز فلکصبح ہی رات اتاری تھی اور شام کو شب پہنائی بھی

خاموشی کا حاصل بھی اک لمبی سی خاموشی تھیان کی بات سنی بھی ہم نے اپنی بات سنائی بھی

کل ساحل پر لیٹے لیٹے کتنی ساری باتیں کیںآپ کا ہنکارا نہ آیا چاند نے بات کرائی بھی

— گلزار