5 اشعار

کہیں تو گرد اڑے یا کہیں غبار دکھے

Kahin to gard uRe ya kahin ghubaar dikhe

کہیں تو گرد اڑے یا کہیں غبار دکھے

«کہیں تو گرد اڑے یا کہیں غبار دکھے» گلزار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

کہیں تو گرد اڑے یا کہیں غبار دکھےکہیں سے آتا ہوا کوئی شہسوار دکھے

خفا تھی شاخ سے شاید کہ جب ہوا گزریزمیں پہ گرتے ہوئے پھول بے شمار دکھے

رواں ہیں پھر بھی رکے ہیں وہیں پہ صدیوں سےبڑے اداس لگے جب بھی آبشار دکھے

کبھی تو چونک کے دیکھے کوئی ہماری طرفکسی کی آنکھ میں ہم کو بھی انتظار دکھے

کوئی طلسمی صفت تھی جو اس ہجوم میں وہہوئے جو آنکھ سے اوجھل تو بار بار دکھے

— گلزار