6 اشعار

کھلی کتاب کے صفحے الٹتے رہتے ہیں

Khuli kitab ke safhe ulaTte rehte hain

کھلی کتاب کے صفحے الٹتے رہتے ہیں

«کھلی کتاب کے صفحے الٹتے رہتے ہیں» گلزار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

کھلی کتاب کے صفحے الٹتے رہتے ہیںہوا چلے نہ چلے دن پلٹتے رہتے ہیں

بس ایک وحشت منزل ہے اور کچھ بھی نہیںکہ چند سیڑھیاں چڑھتے اترتے رہتے ہیں

مجھے تو روز کسوٹی پہ درد کستا ہےکہ جاں سے جسم کے بخیے ادھڑتے رہتے ہیں

کبھی رکا نہیں کوئی مقام صحرا میںکہ ٹیلے پاؤں تلے سے سرکتے رہتے ہیں

یہ روٹیاں ہیں یہ سکے ہیں اور دائرے ہیںیہ ایک دوجے کو دن بھر پکڑتے رہتے ہیں

بھرے ہیں رات کے ریزے کچھ ایسے آنکھوں میںاجالا ہو تو ہم آنکھیں جھپکتے رہتے ہیں

— گلزار