6 اشعار

خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں

Khushboo jaise log mile afsaane mein

خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں

«خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں» گلزار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میںایک پرانا خط کھولا انجانے میں

شام کے سائے بالشتوں سے ناپے ہیںچاند نے کتنی دیر لگا دی آنے میں

رات گزرتے شاید تھوڑا وقت لگےدھوپ انڈیلو تھوڑی سی پیمانے میں

جانے کس کا ذکر ہے اس افسانے میںدرد مزے لیتا ہے جو دہرانے میں

دل پر دستک دینے کون آ نکلا ہےکس کی آہٹ سنتا ہوں ویرانے میں

ہم اس موڑ سے اٹھ کر اگلے موڑ چلےان کو شاید عمر لگے گی آنے میں

— گلزار