7 اشعار

کوئی اٹکا ہوا ہے پل شاید

Koi aTka hua hai pal shayad

کوئی اٹکا ہوا ہے پل شاید

«کوئی اٹکا ہوا ہے پل شاید» گلزار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

کوئی اٹکا ہوا ہے پل شایدوقت میں پڑ گیا ہے بل شاید

لب پہ آئی مری غزل شایدوہ اکیلے ہیں آج کل شاید

دل اگر ہے تو درد بھی ہوگااس کا کوئی نہیں ہے حل شاید

جانتے ہیں ثواب رحم و کرمان سے ہوتا نہیں عمل شاید

آ رہی ہے جو چاپ قدموں کیکھل رہے ہیں کہیں کنول شاید

راکھ کو بھی کرید کر دیکھوابھی جلتا ہو کوئی پل شاید

چاند ڈوبے تو چاند ہی نکلےآپ کے پاس ہوگا حل شاید

— گلزار