5 اشعار

کوئی خاموش زخم لگتی ہے

Koi khamosh zakhm lagti hai

کوئی خاموش زخم لگتی ہے

«کوئی خاموش زخم لگتی ہے» گلزار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

کوئی خاموش زخم لگتی ہےزندگی ایک نظم لگتی ہے

بزم یاراں میں رہتا ہوں تنہااور تنہائی بزم لگتی ہے

اپنے سائے پہ پاؤں رکھتا ہوںچھاؤں چھالوں کو نرم لگتی ہے

چاند کی نبض دیکھنا اٹھ کررات کی سانس گرم لگتی ہے

یہ روایت کہ درد مہکے رہیںدل کی دیرینہ رسم لگتی ہے

— گلزار