7 اشعار

اوس پڑی تھی رات بہت اور کہرہ تھا گرمائش پر

Oas paRi thi raat bahut aur kohra tha garmaish par

اوس پڑی تھی رات بہت اور کہرہ تھا گرمائش پر

«اوس پڑی تھی رات بہت اور کہرہ تھا گرمائش پر» گلزار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 23 سیکنڈ ہے۔

اوس پڑی تھی رات بہت اور کہرہ تھا گرمائش پرسیلی سی خاموشی میں آواز سنی فرمائش پر

فاصلے ہیں بھی اور نہیں بھی ناپا تولا کچھ بھی نہیںلوگ بضد رہتے ہیں پھر بھی رشتوں کی پیمائش پر

منہ موڑا اور دیکھا کتنی دور کھڑے تھے ہم دونوںآپ لڑے تھے ہم سے بس اک کروٹ کی گنجائش پر

کاغذ کا اک چاند لگا کر رات اندھیری کھڑکی پردل میں کتنے خوش تھے اپنی فرقت کی آرائش پر

دل کا حجرہ کتنی بار اجڑا بھی اور بسایا بھیساری عمر کہاں ٹھہرا ہے کوئی ایک رہائش پر

دھوپ اور چھاؤں بانٹ کے تم نے آنگن میں دیوار چنیکیا اتنا آسان ہے زندہ رہنا اس آسائش پر

شاید تین نجومی میری موت پہ آ کر پہنچیں گےایسا ہی اک بار ہوا تھا عیسیٰ کی پیدائش پر

— گلزار