7 اشعار

پیڑ کے پتوں میں ہلچل ہے خبردار سے ہیں

PeR ke patton mein halchal hai khabardaar se hain

پیڑ کے پتوں میں ہلچل ہے خبردار سے ہیں

«پیڑ کے پتوں میں ہلچل ہے خبردار سے ہیں» گلزار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

پیڑ کے پتوں میں ہلچل ہے خبردار سے ہیںشام سے تیز ہوا چلنے کے آثار سے ہیں

ناخدا دیکھ رہا ہے کہ میں گرداب میں ہوںاور جو پل پہ کھڑے لوگ ہیں اخبار سے ہیں

چڑھتے سیلاب میں ساحل نے تو منہ ڈھانپ لیالوگ پانی کا کفن لینے کو تیار سے ہیں

کل تواریخ میں دفنائے گئے تھے جو لوگان کے سائے ابھی دروازوں پہ بیدار سے ہیں

وقت کے تیر تو سینے پہ سنبھالے ہم نےاور جو نیل پڑے ہیں تری گفتار سے ہیں

روح سے چھیلے ہوئے جسم جہاں بکتے ہیںہم کو بھی بیچ دے ہم بھی اسی بازار سے ہیں

جب سے وہ اہل سیاست میں ہوئے ہیں شاملکچھ عدو کے ہیں تو کچھ میرے طرف دار سے ہیں

— گلزار