5 اشعار

رکے رکے سے قدم رک کے بار بار چلے

Ruke ruke se qadam ruk ke baar baar chale

رکے رکے سے قدم رک کے بار بار چلے

«رکے رکے سے قدم رک کے بار بار چلے» گلزار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

رکے رکے سے قدم رک کے بار بار چلےقرار دے کے ترے در سے بے قرار چلے

اٹھائے پھرتے تھے احسان جسم کا جاں پرچلے جہاں سے تو یہ پیرہن اتار چلے

نہ جانے کون سی مٹی وطن کی مٹی تھینظر میں دھول جگر میں لیے غبار چلے

سحر نہ آئی کئی بار نیند سے جاگےتھی رات رات کی یہ زندگی گزار چلے

ملی ہے شمع سے یہ رسم عاشقی ہم کوگناہ ہاتھ پہ لے کر گناہ گار چلے

— گلزار