5 اشعار

شام سے آنکھ میں نمی سی ہے

Shaam se aankh mein nami si hai

شام سے آنکھ میں نمی سی ہے

«شام سے آنکھ میں نمی سی ہے» گلزار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

شام سے آنکھ میں نمی سی ہےآج پھر آپ کی کمی سی ہے

دفن کر دو ہمیں کہ سانس آئےنبض کچھ دیر سے تھمی سی ہے

کون پتھرا گیا ہے آنکھوں میںبرف پلکوں پہ کیوں جمی سی ہے

وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کرعادت اس کی بھی آدمی سی ہے

آئیے راستے الگ کر لیںیہ ضرورت بھی باہمی سی ہے

— گلزار