8 اشعار

اپنی جنگ رہے گی

Apni Jang Rahegi

اپنی جنگ رہے گی

«اپنی جنگ رہے گی» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

جب تک چند لٹیرے اس دھرتی کو گھیرے ہیںاپنی جنگ رہے گی

اہل ہوس نے جب تک اپنے دام بکھیرے ہیںاپنی جنگ رہے گی

مغرب کے چہرے پر یارو اپنے خون کی لالی ہےلیکن اب اس کے سورج کی ناؤ ڈوبنے والی ہے

مشرق کی تقدیر میں جب تک غم کے اندھیرے ہیںاپنی جنگ رہے گی

ظلم کہیں بھی ہو ہم اس کا سر خم کرتے جائیں گےمحلوں میں اب اپنے لہو کے دئے نہ جلنے پائیں گے

کٹیاؤں سے جب تک صبحوں نے منہ پھیرے ہیںاپنی جنگ رہے گی

جان لیا اے اہل کرم تم ٹولی ہو عیاروں کیدست نگر کیوں بن کے رہے یہ بستی ہے خودداروں کی

ڈوبے ہوئے دکھ درد میں جب تک سانجھ سویرے ہیںاپنی جنگ رہے گی

— حبیب جالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں