20 اشعار

ماں

Maa

ماں

«ماں» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 39 سیکنڈ ہے۔

بچوں پہ چلی گولیماں دیکھ کے یہ بولی

یہ دل کے مرے ٹکڑےیوں روئے مرے ہوتے

میں دور کھڑی دیکھوںیہ مجھ سے نہیں ہوگا

میں دور کھڑی دیکھوںاور اہل ستم کھیلیں

خوں سے مرے بچوں کےدن رات یہاں ہولی

بچوں پہ چلی گولیماں دیکھ کے یہ بولی

یہ دل کے مرے ٹکڑےیوں روئیں مرے ہوتے

میں دور کھڑی دیکھوںیہ مجھ سے نہیں ہوگا

میداں میں نکل آئیاک برق سی لہرائی

ہر دست ستم کانپابندوق بھی تھرائی

ہر سمت صدا گونجیمیں آتی ہوں میں آئی

میں آتی ہوں میں آئیہر ظلم ہوا باطل

اور سہم گئے قاتلجب اس نے زباں کھولی

بچوں پہ چلی گولیاس نے کہا خوں خوارو!

دولت کے پرستارودھرتی ہے یہ ہم سب کی

اس دھرتی کو نا دانو!انگریز کے دربانو

صاحب کی عطا کردہجاگیر نہ تم جانو

اس ظلم سے باز آؤبیرک میں چلے جاؤ

کیوں چند لٹیروں کیپھرتے ہو لیے ٹولی

بچوں پہ چلی گولی

— حبیب جالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں