10 اشعار

دستور

Dastoor

دستور

«دستور» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے سجاد رضا نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

دیپ جس کا محلات ہی میں جلےچند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے

وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلےایسے دستور کو صبح بے نور کو

میں نہیں مانتا میں نہیں جانتامیں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے

میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سےکیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے

ظلم کی بات کو جہل کی رات کومیں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

پھول شاخوں پہ کھلنے لگے تم کہوجام رندوں کو ملنے لگے تم کہو

چاک سینوں کے سلنے لگے تم کہواس کھلے جھوٹ کو ذہن کی لوٹ کو

میں نہیں مانتا میں نہیں جانتاتم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں

اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوںچارہ گر دردمندوں کے بنتے ہو کیوں

تم نہیں چارہ گر کوئی مانے مگرمیں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

— حبیب جالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں