39 اشعار

جمہوریت

Jamhooriyat

جمہوریت

«جمہوریت» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے شاعرجنوب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ ہے۔

دس کروڑ انسانو!زندگی سے بیگانو!

صرف چند لوگوں نےحق تمہارا چھینا ہے

خاک ایسے جینے پریہ بھی کوئی جینا ہے

بے شعور بھی تم کوبے شعور کہتے ہیں

سوچتا ہوں یہ ناداںکس ہوا میں رہتے ہیں

اور یہ قصیدہ گوفکر ہے یہی جن کو

ہاتھ میں علم لے کرتم نہ اٹھ سکو لوگو

کب تلک یہ خاموشیچلتے پھرتے زندانو

دس کروڑ انسانو!یہ ملیں یہ جاگیریں

کس کا خون پیتی ہیںبیرکوں میں یہ فوجیں

کس کے بل پہ جیتی ہیںکس کی محنتوں کا پھل

داشتائیں کھاتی ہیںجھونپڑوں سے رونے کی

کیوں صدائیں آتی ہیںجب شباب پر آ کر

کھیت لہلہاتا ہےکس کے نین روتے ہیں

کون مسکراتا ہےکاش تم کبھی سمجھو

کاش تم کبھی سمجھوکاش تم کبھی جانو

دس کروڑ انسانو!علم و فن کے رستے میں

لاٹھیوں کی یہ باڑیںکالجوں کے لڑکوں پر

گولیوں کی بوچھاڑیںیہ کرائے کے غنڈے

یادگار شب دیکھوکس قدر بھیانک ہے

ظلم کا یہ ڈھب دیکھورقص آتش و آہن

دیکھتے ہی جاؤ گےدیکھتے ہی جاؤ گے

ہوش میں نہ آؤ گےہوش میں نہ آؤ گے

اے خموش طوفانو!دس کروڑ انسانو!

سیکڑوں حسن ناصرہیں شکار نفرت کے

صبح و شام لٹتے ہیںقافلے محبت کے

جب سے کالے باغوں نےآدمی کو گھیرا ہے

مشعلیں کرو روشندور تک اندھیرا ہے

میرے دیس کی دھرتیپیار کو ترستی ہے

پتھروں کی بارش ہیاس پہ کیوں برستی ہے

ملک کو بچاؤ بھیملک کے نگہبانو

دس کروڑ انسانو!بولنے پہ پابندی

سوچنے پہ تعزیریںپاؤں میں غلامی کی

آج بھی ہیں زنجیریںآج حرف آخر ہے

بات چند لوگوں کیدن ہے چند لوگوں کا

رات چند لوگوں کیاٹھ کے درد مندوں کے

صبح و شام بدلو بھیجس میں تم نہیں شامل

وہ نظام بدلو بھیدوستوں کو پہچانو

دشمنوں کو پہچانودس کروڑ انسانو!

— حبیب جالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں