17 اشعار

اے چاند یہاں نہ نکلا کر

Ae Chaand Yahaan Na Nikla Kar

اے چاند یہاں نہ نکلا کر

«اے چاند یہاں نہ نکلا کر» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے رابعہ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 35 سیکنڈ ہے۔

بے نام سے سپنے دکھلا کراے دل ہر جا نہ پھسلا کر

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کااے چاند یہاں نہ نکلا کر

نہ ڈرتے ہیں نہ نادم ہیںہاں کہنے کو وہ خادم ہیں

یہاں الٹی گنگا بہتی ہےاس دیس میں اندھے حاکم ہیں

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کااے چاند یہاں نہ نکلا کر

یہاں راقم سارے لکھتے ہیںقوانین یہاں نہ ٹکتے ہیں

ہیں یہاں پر کاروبار بہتاس دیس میں گردے بکتے ہیں

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کااے چاند یہاں نہ نکلا کر

یہاں ڈالر ڈالر ہوتی ہےکسوٹی ہے جی ڈی پی اور

کچھ لوگ ہیں عالیشان بہتاور کچھ کا مقصد روٹی ہے

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کااے چاند یہاں نہ نکلا کر

امید کو لے کر پڑھتے ہیںپھر ڈگری لے کر پھرتے ہیں

جب جاب نہ ان کو ملتی ہےپھر خودکش حملے کرتے ہیں

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کااے چاند یہاں نہ نکلا کر

وہ کہتے ہیں سب اچھا ہےاور فوج کا راج ہی سچا ہے

کھوتا گاڑی والا کیوں مانےجب بھوکا اس کا بچہ ہے

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کااے چاند یہاں نہ نکلا کر

— حبیب جالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں