9 اشعار

عشق نے حسن کی بیداد پہ رونا چاہا

Ishq ne husn ki bedad pe rona chaha

عشق نے حسن کی بیداد پہ رونا چاہا

«عشق نے حسن کی بیداد پہ رونا چاہا» حفیظ جالندھری کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)» میں 16 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

عشق نے حسن کی بیداد پہ رونا چاہاتخم احساس وفا سنگ میں بونا چاہا

آنے والے کسی طوفان کا رونا رو کرنا خدا نے مجھے ساحل پہ ڈبونا چاہا

سنگ دل کیوں نہ کہیں بت کدے والے مجھ کومیں نے پتھر کا پرستار نہ ہونا چاہا

حضرت شیخ نہ سمجھے مرے دل کی قیمتلے کے تسبیح کے رشتے میں پرونا چاہا

کوئی مذکور نہ تھا غیر کا لیکن تم نےباتوں باتوں میں یہ نشتر بھی چبھونا چاہا

دیدۂ تر سے بھی سرزد ہوا اک جرم عظیمحشر میں نامۂ اعمال کو دھونا چاہا

مرتے مرتے بھی توقع رہی دل داری کیرکھ کے سر زانوئے تقدیر پہ سونا چاہا

ہائے کس درد سے کی ضبط کی تلقین مجھےہنس پڑے دوست جو میں نے کبھی رونا چاہا

جنس شہرت بہت ارزاں تھی مگر میں نے حفیظؔدولت درد کو بے کار نہ کھونا چاہا

— حفیظ جالندھری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں