10 اشعار

کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا

Koi chara nahin dua ke siva

کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا

«کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا» حفیظ جالندھری کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)» میں 16 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

کوئی چارہ نہیں دعا کے سواکوئی سنتا نہیں خدا کے سوا

مجھ سے کیا ہو سکا وفا کے سوامجھ کو ملتا بھی کیا سزا کے سوا

برسر ساحل مراد یہاںکوئی ابھرا ہے ناخدا کے سوا

کوئی بھی تو دکھاؤ منزل پرجس کو دیکھا ہو رہ نما کے سوا

دل سبھی کچھ زبان پر لایااک فقط عرض مدعا کے سوا

کوئی راضی نہ رہ سکا مجھ سےمیرے اللہ تری رضا کے سوا

بت کدے سے چلے ہو کعبے کوکیا ملے گا تمہیں خدا کے سوا

دوستوں کے یہ مخلصانہ تیرکچھ نہیں میری ہی خطا کے سوا

مہر و مہ سے بلند ہو کر بھینظر آیا نہ کچھ خلا کے سوا

اے حفیظؔ آہ آہ پر آخرکیا کہیں دوست واہ وا کے سوا

— حفیظ جالندھری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں