8 اشعار

مجھے شاد رکھنا کہ ناشاد رکھنا

Mujhe shaad rakhna ke nashad rakhna

مجھے شاد رکھنا کہ ناشاد رکھنا

«مجھے شاد رکھنا کہ ناشاد رکھنا» حفیظ جالندھری کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)» میں 16 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

مجھے شاد رکھنا کہ ناشاد رکھنامرے دیدہ و دل کو آباد رکھنا

بھلائی نہیں جا سکیں گی یہ باتیںتمہیں یاد آئیں گے ہم یاد رکھنا

وہ ناشاد و برباد رکھتے ہیں مجھ کوالٰہی انہیں شاد و آباد رکھنا

تمہیں بھی قسم ہے کہ جو سر جھکا دےاسی کو تہ تیغ بیداد رکھنا

ملیں گے تمہیں راہ میں بت کدے بھیذرا اپنے اللہ کو یاد رکھنا

جہاں بھی نشے میں قدم لڑکھڑائیںوہیں ایک مسجد کی بنیاد رکھنا

ستاروں پہ چلتے ہوئے ابن آدمنظر میں فرشتوں کی افتاد رکھنا

حفیظؔ اپنے افکار کی سادگی کوتکلف کی الجھن سے آزاد رکھنا

— حفیظ جالندھری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں