9 اشعار

مضحکہ آؤ اڑائیں عشق بے بنیاد کا

Mazhaka aao udaein ishq-e-be-buniyad ka

مضحکہ آؤ اڑائیں عشق بے بنیاد کا

«مضحکہ آؤ اڑائیں عشق بے بنیاد کا» حفیظ جالندھری کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)» میں 16 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

مضحکہ آؤ اڑائیں عشق بے بنیاد کااک جدا مدفن بنائیں تیشۂ فرہاد کا

واہ واہ کیا رنگ بدلا گلشن ایجاد کاسایۂ گل پر گماں ہونے لگا صیاد کا

بہہ چلا ہے اشک حسرت المدد اے برق یاسیہ بھی اک دانہ ہے میرے خرمن برباد کا

کس نگاہ گرم سے دیکھا ہے اس نے وقت قتلآہ ٹھنڈی پڑ گئی دم گھٹ گیا فریاد کا

غنچہ غنچہ خوف سے مجھ کو نظر آیا قفسپتے پتے پر ہوا دھوکا کف صیاد کا

یہ سمجھ لیجے کسی شاعر کے دل کا ٹوٹناٹوٹ جانا ہے طلسم عالم ایجاد کا

ہو نہ احساس اسیری تو رہائی ہے محالایسے قیدی نام تک لیتے نہیں میعاد کا

ضعف کی یہ ہمتیں ہیں ناتوانی کا یہ زورٹکڑے ٹکڑے کر دیا دامن مری فریاد کا

اس سخنور سے مجھے فیض سخن ہے اے حفیظؔنام نامی ہے گرامی جس جہاں استاد کا

— حفیظ جالندھری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں