12 اشعار

اے جنوں ہوتے ہیں صحرا پر اتارے شہر سے

Ai junūñ hote haiñ sahrā par utāre shahr se

اے جنوں ہوتے ہیں صحرا پر اتارے شہر سے

«اے جنوں ہوتے ہیں صحرا پر اتارے شہر سے» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

اے جنوں ہوتے ہیں صحرا پر اتارے شہر سےفصل گل آئی کہ دیوانے سدھارے شہر سے

خوب روئے حال پر اپنے وطن کا سن کے حالکوئی غربت میں جو آ نکلا ہمارے شہر سے

جان دوں گا میں اسیر اے دوستو چپکے رہوذکر کیا اس کا کہ دیوانہ سدھارے شہر سے

موسم گل میں رہا زنداں میں اور آئی نہ موتسامنے ہوتی نہیں ہے آنکھ سارے شہر سے

جوش وحشت میں جو لی زنداں سے میں نے راہ دشتکود کاں مجھ کو خدا حافظ پکارے شہر سے

پاؤں میں مجنوں کے تو طاقت نہیں اے کودکوموسم گل کی ہوا تم کو ابھارے شہر سے

اک نظر للہ ہم کو صورت زیبا دکھاؤتشنۂ دیدار جاتے ہیں تمہارے شہر سے

دشت گردی کی نہیں دیوانہ کو کچھ احتیاججامہ سے باہر جو ہے باہر ہے سارے شہر سے

چوٹ سی لگتی ہے دل جنگل سے ہوتا ہے اچاٹسنگ طفلاں کرتے ہیں مجھ کو اشارے شہر سے

جوش وحشت سے نہیں پہنچا میں صحرا تک ہنوزجانے والے گور کے پہنچے کنارے شہر سے

موسم گل آئی نیت سیر دیوانوں کی ہومیوۂ صحرائی پر ہیں منہ پسارے شہر سے

اب تو آزردہ ہے تو لیکن ملے گا ہاتھ پھرجس گھڑی آتشؔ نکل جاوے گا پیارے شہر سے

— حیدر علی آتش