9 اشعار

قد صنم سا اگر آفریدہ ہونا تھا

Qad sanam sā agar āfrīda honā thā

قد صنم سا اگر آفریدہ ہونا تھا

«قد صنم سا اگر آفریدہ ہونا تھا» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

قد صنم سا اگر آفریدہ ہونا تھانہ سرو باغ کو اتنا کشیدہ ہونا تھا

ہوا ہے زلف سے گستاخ کس قدر شانہہمارے پاس بھی دست بریدہ ہونا تھا

نہ کھینچنا تھا زلیخا کو دامن یوسفاسی کا پردۂ عصمت دریدہ ہونا تھا

دیا نہ ساتھ جو صبر و قرار نے نہ دیاروانہ ملک عدم کو جریدہ ہونا تھا

مٹائے سے کوئی مٹتا ہے باطلوں کے حقکچھ اختیار سے کیا برگزیدہ ہونا تھا

نہ جانتا تھا غضب ہے نگہ کا تیر اے دلتجھی کو سامنے آفت رسیدہ ہونا تھا

رلاتا شام و سحر کس طرح نہ طالع پستبلند سر سے مرے آب دیدہ ہونا تھا

گریز یار نے برباد کر دیا ہم کوغبار راہ غزال رمیدہ ہونا تھا

نہ آئی دامن دایہ میں نیند اے آتشؔدرون دامن خاک آرمیدہ ہونا تھا

— حیدر علی آتش