13 اشعار

ایسی وحشت نہیں دل کو کہ سنبھل جاؤں گا

Aisi wahshat nahin dil ko ke sambhal jāooñ ga

ایسی وحشت نہیں دل کو کہ سنبھل جاؤں گا

«ایسی وحشت نہیں دل کو کہ سنبھل جاؤں گا» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 39 سیکنڈ ہے۔

ایسی وحشت نہیں دل کو کہ سنبھل جاؤں گاصورت پیرہن تنگ نکل جاؤں گا

وہ نہیں ہوں کہ رکھائی سے جو ٹل جاؤں گاآج جاتا تھا تو ضد سے تری کل جاؤں گا

شام ہجراں کسی صورت سے نہیں ہوتی صبحمنہ چھپا کر میں اندھیرے میں نکل جاؤں گا

کھینچ کر تیغ کمر سے کسے دکھلاتے ہوناف معشوق نہیں ہوں جو میں ٹل جاؤں گا

شب ہجر اپنی سیاہی کسے دکھلاتی ہےکچھ میں لڑکا تو نہیں ہوں کہ دہل جاؤں گا

کوچۂ یار کا سودا ہے مرے سر کے ساتھپاؤں تھک تھک کے ہوں ہر چند کہ شل جاؤں گا

ضبط بیتابیٔ دل کی نہیں طاقت باقیکوہ صبر اب یہ صدا دیتا ہے ٹل جاؤں گا

طالع بد کے اثر سے یہ یقیں ہے مجھ کوتیری حسرت ہی میں اے حسن عمل جاؤں گا

چار دن زیست کے گزریں گے تأسف میں مجھےحال دل پر کف افسوس میں مل جاؤں گا

شعلہ‌ رویوں کو نہ دکھلاؤ مجھے اے آنکھوموم سے نرم مرا دل ہے پگھل جاؤں گا

حال پیری کسے معلوم جوانی میں تھاکیا سمجھتا تھا میں دو دن میں بدل جاؤں گا

وہی دیوانگی میری ہے بہار آنے دودیکھ کر لڑکوں کی صورت کو بہل جاؤں گا

شیر ڈھلتے ہیں مری فکر سے آج اے آتشؔمر کے کل گور کے سانچے میں میں ڈھل جاؤں گا

— حیدر علی آتش