7 اشعار

چمن میں شب کو جو وہ شوخ بے نقاب آیا

Chaman mein shab ko jo woh shokh be-naqaab aaya

چمن میں شب کو جو وہ شوخ بے نقاب آیا

«چمن میں شب کو جو وہ شوخ بے نقاب آیا» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش» میں 22 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

چمن میں شب کو جو وہ شوخ بے نقاب آیایقین ہو گیا شبنم کو آفتاب آیا

ان انکھڑیوں میں اگر نشۂ شراب آیاسلام جھک کے کروں گا جو پھر حجاب آیا

کسی کے محرم آب رواں کی یاد آئیحباب کے جو برابر کبھی حباب آیا

شب فراق میں مجھ کو سلانے آیا تھاجگایا میں نے جو افسانہ گو کو خواب آیا

عدم میں ہستی سے جا کر یہی کہوں گا میںہزار حسرت زندہ کو گاڑ داب آیا

چکور حسن مہ چار دہ کو بھول گیامراد پر جو ترا عالم شباب آیا

محبت مے و معشوق ترک کر آتشؔسفید بال ہوئے موسم خضاب آیا

— حیدر علی آتش

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں