چمن میں شب کو جو وہ شوخ بے نقاب آیا
کلام: حیدر علی آتش
چمن میں شب کو جو وہ شوخ بے نقاب آیایقین ہو گیا شبنم کو آفتاب آیا
ان انکھڑیوں میں اگر نشۂ شراب آیاسلام جھک کے کروں گا جو پھر حجاب آیا
صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش
مہمان شاعر: حیدر علی آتش
چمن میں شب کو جو وہ شوخ بے نقاب آیایقین ہو گیا شبنم کو آفتاب آیا
ان انکھڑیوں میں اگر نشۂ شراب آیاسلام جھک کے کروں گا جو پھر حجاب آیا
غیرت مہر رشک ماہ ہو تمخوب صورت ہو بادشاہ ہو تم
جس نے دیکھا تمہیں وہ مر ہی گیاحسن سے تیغ بے پناہ ہو تم