9 اشعار

چھپ کے رسوا ہوئے انکار ہے سچ بات میں کیا

Chhup ke ruswa hue inkar hai sach baat mein kya

چھپ کے رسوا ہوئے انکار ہے سچ بات میں کیا

«چھپ کے رسوا ہوئے انکار ہے سچ بات میں کیا» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

چھپ کے رسوا ہوئے انکار ہے سچ بات میں کیااے صنم لطف ہے پردے کی ملاقات میں کیا

کوئی اندھا ہی تجھے ماہ کہے اے خورشیدفرق ہوتا نہیں انسان سے دن رات میں کیا

یار نے وعدۂ فردائے قیامت تو کیاشک ہے اے نالۂ دل تیری کرامات میں کیا

کوئی بت خانے کو جاتا ہے کوئی کعبے کوپھر رہے گبر و مسلماں ہیں تری گھات میں کیا

ایک مدت سے ہوں سائل ترے دروازے پربوسہ یا گالی ملے گا مجھے خیرات میں کیا

ایسی اونچی بھی تو دیوار نہیں گھر کی ترےرات اندھیری کوئی آوے گی نہ برسات میں کیا

دو گھڑی کی جو ملاقات تھی وہ بھی موقوفایسا پڑتا تھا خلل یار کی اوقات میں کیا

پڑھ کے خط اور بھی مایوس ہوئے وصل سے ہمیار نے بھیجا سفر سے ہمیں سوغات میں کیا

آتش مست جو مل جائے تو پوچھوں اس سےتو نے کیفیت اٹھائی ہے خرابات میں کیا

— حیدر علی آتش