13 اشعار

دل شہید رہ داماں نہ ہوا تھا سو ہوا

Dil shaheed-e-rah-e-daamaan na hua tha so hua

دل شہید رہ داماں نہ ہوا تھا سو ہوا

«دل شہید رہ داماں نہ ہوا تھا سو ہوا» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

دل شہید رہ داماں نہ ہوا تھا سو ہواٹکڑے ٹکڑے جو گریباں نہ ہوا تھا سو ہوا

برق بے نور ہے اس رخ کی چمک کے آگےعالم نور کا انساں نہ ہوا تھا سو ہوا

رونے پر میرے ہوا ہنس کے وہ گل شرمندہغنچہ ساں سر بہ گریباں نہ ہوا تھا سو ہوا

میں نے رنگیں نہ کیا اس کا تڑپ کر دامنسر جلاد پہ احساں نہ ہوا تھا سو ہوا

ہو گیا دیکھ کے قاضی بھی طرف دار اس کابے گنہ خون مسلماں نہ ہوا تھا سو ہوا

ہر زباں پر مری رسوائی کا افسانہ ہےنسخۂ شوق پریشاں نہ ہوا تھا سو ہوا

عرق آلودہ جبیں دیکھ کے دل ڈوب گیاشبنم باغ سے طوفاں نہ ہوا تھا سو ہوا

قتل کر کے مجھے تلوار کو توڑا اس نےخون ناحق سے پشیماں نہ ہوا تھا سو ہوا

یار کے روئے کتابی کی کروں کیا تعریفبعد قرآں کے جو قرآں نہ ہوا تھا سو ہوا

آنسو آنکھوں سے نکلتا ہے سو چنگاری ہےپردۂ دل سے نمایاں نہ ہوا تھا سو ہوا

آتش عشق سے ہے داغ سراپا میراآدمی سرو چراغاں نہ ہوا تھا سو ہوا

گرد رہ بن کے ہوا صندل پیشانیٔ یارذرہ خورشید درخشاں نہ ہوا تھا سو ہوا

پہروں ہی مصرع سودا ہے رلاتا آتشؔتجھے اے دیدۂ گریاں نہ ہوا تھا سو ہوا

— حیدر علی آتش