11 اشعار

حسن پری اک جلوۂ مستانہ ہے اس کا

Husn-e-pari ek jalwa-e-mastana hai us ka

حسن پری اک جلوۂ مستانہ ہے اس کا

«حسن پری اک جلوۂ مستانہ ہے اس کا» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش» میں 22 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 23 سیکنڈ ہے۔

حسن پری اک جلوۂ مستانہ ہے اس کاہشیار وہی ہے کہ جو دیوانہ ہے اس کا

گل آتے ہیں ہستی میں عدم سے ہمہ تن گوشبلبل کا یہ نالہ نہیں افسانہ ہے اس کا

گریاں ہے اگر شمع تو سر دھنتا ہے شعلہمعلوم ہوا سوختہ پروانہ ہے اس کا

وہ شوخ نہاں گنج کی مانند ہے اس میںمعمورۂ عالم جو ہے ویرانہ ہے اس کا

جو چشم کہ حیراں ہوئی آئینہ ہے اس کیجو سینہ کہ صد چاک ہوا شانہ ہے اس کا

دل قصر شہنشہ ہے وہ شوخ اس میں شہنشاہعرصہ یہ دو عالم کا جلو خانہ ہے اس کا

وہ یاد ہے اس کی کہ بھلا دے دو جہاں کوحالت کو کرے غیر وہ یارانہ ہے اس کا

یوسف نہیں جو ہاتھ لگے چند درم سےقیمت جو دو عالم کی ہے بیعانہ ہے اس کا

آوارگی نکہت گل ہے یہ اشارہجامے سے وہ باہر ہے جو دیوانہ ہے اس کا

یہ حال ہوا اس کے فقیروں سے ہویداآلودۂ دنیا جو ہے بیگانہ ہے اس کا

شکرانۂ ساقی ازل کرتا ہے آتشؔلبریز مئے شوق سے پیمانہ ہے اس کا

— حیدر علی آتش

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں