چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم
کلام: حیدر علی آتش
چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلومنہال کس کو کرے باغباں نہیں معلوم
مرے صنم کا کسی کو مکاں نہیں معلومخدا کا نام سنا ہے نشاں نہیں معلوم
صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش
مہمان شاعر: حیدر علی آتش
چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلومنہال کس کو کرے باغباں نہیں معلوم
مرے صنم کا کسی کو مکاں نہیں معلومخدا کا نام سنا ہے نشاں نہیں معلوم
خُدا کرے نہ تمھیں میرے حال سے واقفنہ ہو مزاجِ مبارک ملال سے واقف
نہیں جو روز شب وماہ وسال سے واقفوہی ہے خُوب زمانےکے حال سے واقف