خوشا وہ دل کہ ہو جس دل میں آرزو تیری
کلام: حیدر علی آتش
خوشا وہ دل کہ ہو جس دل میں آرزو تیریخوشا دماغ جسے تازہ رکھّے بُو تیری
پھرے ہیں مشرق و مغرب سے تا جنوب و شمالتلاش کی ہے صنم ہم نے چار سُو تیری
صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش
مہمان شاعر: حیدر علی آتش
خوشا وہ دل کہ ہو جس دل میں آرزو تیریخوشا دماغ جسے تازہ رکھّے بُو تیری
پھرے ہیں مشرق و مغرب سے تا جنوب و شمالتلاش کی ہے صنم ہم نے چار سُو تیری