9 اشعار

کوچۂ دلبر میں میں بلبل چمن میں مست ہے

Koocha-e-dilbar mein main bulbul chaman mein mast hai

کوچۂ دلبر میں میں بلبل چمن میں مست ہے

«کوچۂ دلبر میں میں بلبل چمن میں مست ہے» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

کوچۂ دلبر میں میں بلبل چمن میں مست ہےہر کوئی یاں اپنے اپنے پیرہن میں مست ہے

نشۂ دولت سے منعم پیرہن میں مست ہےمرد مفلس حالت رنج و محن میں مست ہے

دور گردوں ہے خداوندا کہ یہ دور شرابدیکھتا ہوں جس کو میں اس انجمن میں مست ہے

آج تک دیکھا نہیں ان آنکھوں نے روئے خمارکون مجھ سا گنبد چرخ کہن میں مست ہے

گردش چشم غزالاں گردش ساغر ہے یاںخوش رہیں اہل وطن دیوانہ پن میں مست ہے

ہے جو حیران صفائے رخ حلب میں آئینہبوئے زلف یار سے آہو ختن میں مست ہے

غافل و ہشیار ہیں اس چشم مے گوں کے خرابزندہ زیر پیرہن مردہ کفن میں مست ہے

ایک ساغر دو جہاں کے غم کو کرنا ہے غلطاے خوشا طالع جو شیخ و برہمن میں مست ہے

وحشت مجنوں و آتشؔ میں ہے بس اتنا ہی فرقکوئی بن میں مست ہے کوئی وطن میں مست ہے

— حیدر علی آتش