10 اشعار

پیری سے مرا نوع دگر حال ہوا ہے

Peeri se mera nau'a digar haal hua hai

پیری سے مرا نوع دگر حال ہوا ہے

«پیری سے مرا نوع دگر حال ہوا ہے» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 29 سیکنڈ ہے۔

پیری سے مرا نوع دگر حال ہوا ہےوہ قد جو الف سا تھا سو اب دال ہوا ہے

مقبول مرے قول سے قوال ہوا ہےصوفی کو غزل سن کے مری حال ہوا ہے

ان ہاتھوں کی دولت سے کڑا مال ہوا ہےان پاؤں سے آوازۂ خلخال ہوا ہے

المنۃ و للہ بہ صد منت ادھر سےانکار تھا جس شے کا اب اقبال ہوا ہے

جب قتل کیا ہے کسی عاشق کو تو واں سےجلاد کی تلوار کو رومال ہوا ہے

کس عقدے کو اس زلف کی کھولا نہیں ہم نےسلجھایا ہے الجھا ہوا جو بال ہوا ہے

کس سر کو نہیں یار کی رفتار کا سودامعراج وہ سمجھا ہے جو پامال ہوا ہے

بیمار رہا برسوں میں عیسیٰ نفسوں میںپوچھا نہ کسی نے کبھی کیا حال ہوا ہے

اے ابر کرم تو ہی سفید اس کو کرے گابرسوں میں سیہ نامۂ اعمال ہوا ہے

جو ناز کرے یار سزاوار ہے آتشؔخوش رو و خوش اسلوب و خوش اقبال ہوا ہے

— حیدر علی آتش