6 اشعار

سر کاٹ کے کر دیجئے قاتل کے حوالے

Sar kaat ke kar deejiye qatil ke hawale

سر کاٹ کے کر دیجئے قاتل کے حوالے

«سر کاٹ کے کر دیجئے قاتل کے حوالے» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

سر کاٹ کے کر دیجئے قاتل کے حوالےہمت مری کہتی ہے کہ احسان بلا لے

ہر قطرۂ خوں سوز دروں سے ہے اک اخگرجلاد کی تلوار میں پڑ جائیں گے چھالے

نادان نہ ہو عقل عطا کی ہے خدا نےیوسف کی طرح تم کو کوئی بیچ نہ ڈالے

ہستی کی اسیری سے شرر سے ہیں سوا تنگچھوٹے تو ادھر پھر کے نہیں دیکھنے والے

سالک کو یہی جادے سے آواز ہے آتیپامال جو ہو راہ وہ منزل کی نکالے

صیاد چمن ہی میں کرے مرغ چمن ذبحلبریز لہو سے ہی درختوں کے ہوں تھالے

— حیدر علی آتش