12 اشعار

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے

Ye ārzū thī tujhe gul ke rū-ba-rū karte

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے

«یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش» میں 22 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتےہم اور بلبل بیتاب گفتگو کرتے

پیامبر نہ میسر ہوا تو خوب ہوازبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے

مری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہکسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے

ہمیشہ رنگ زمانہ بدلتا رہتا ہےسفید رنگ ہیں آخر سیاہ مو کرتے

لٹاتے دولت دنیا کو میکدے میں ہمطلائی ساغر مے نقرئی سبو کرتے

ہمیشہ میں نے گریباں کو چاک چاک کیاتمام عمر رفوگر رہے رفو کرتے

جو دیکھتے تری زنجیر زلف کا عالماسیر ہونے کی آزاد آرزو کرتے

بیاض گردن جاناں کو صبح کہتے جو ہمستارۂ سحری تکمۂ گلو کرتے

یہ کعبے سے نہیں بے وجہ نسبت رخ یاریہ بے سبب نہیں مردے کو قبلہ رو کرتے

سکھاتے نالۂ شبگیر کو در اندازیغم فراق کا اس چرخ کو عدو کرتے

وہ جان جاں نہیں آتا تو موت ہی آتیدل و جگر کو کہاں تک بھلا لہو کرتے

نہ پوچھ عالم برگشتہ طالعی آتشؔبرستی آگ جو باراں کی آرزو کرتے

— حیدر علی آتش

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں