یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے
کلام: حیدر علی آتش
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتےہم اور بلبل بیتاب گفتگو کرتے
پیامبر نہ میسر ہوا تو خوب ہوازبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے
صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش
مہمان شاعر: حیدر علی آتش
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتےہم اور بلبل بیتاب گفتگو کرتے
پیامبر نہ میسر ہوا تو خوب ہوازبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے
حسرت جلوۂ دیدار لیے پھرتی ہےپیش روزن پس دیوار لیے پھرتی ہے
اس مشقت سے اسے خاک نہ ہوگا حاصلجان عبث جسم کی بیکار لیے پھرتی ہے