7 اشعار

بت بے‌ درد کا غم مونس ہجراں نکلا

But-e-be-dard ka gham moonis-e-hijran nikla

بت بے‌ درد کا غم مونس ہجراں نکلا

«بت بے‌ درد کا غم مونس ہجراں نکلا» حسرت موہانی کا کلام ہے، جسے ریبل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)» میں 7 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

بت بے‌ درد کا غم مونس ہجراں نکلادرد جانا تھا جسے ہم نے وہ درماں نکلا

آنکھ جب بند ہوئی تب کھلیں آنکھیں اپنیبزم یاراں جسے سمجھے تھے وہ زنداں نکلا

حسرت و یاس کا انبوہ فغاں کی کثرتمیں تری بزم سے کیا با سر و ساماں نکلا

خون ہو کر تو یہ دل آنکھ سے برسوں ٹپکانہ کوئی پر دل ناکام کا ارماں نکلا

آئنہ پیکر تصویر نگاہ مشتاقجسے دیکھا تری محفل میں وہ حیراں نکلا

مجھ کو حیرت ہے ہوا کیا دم رخصت ہمدمجان نکلی مرے پہلو سے کہ جاناں نکلا

خوب دوزخ کی مصیبت سے بچے ہم حسرتؔاس کا داروغہ وہی یار کا درباں نکلا

— حسرت موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں