15 اشعار

جو دور سے بھی نظر تجھ پہ یار ہم کرتے

Jo door se bhi nazar tujh pe yaar hum karte

جو دور سے بھی نظر تجھ پہ یار ہم کرتے

«جو دور سے بھی نظر تجھ پہ یار ہم کرتے» حسرت موہانی کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)» میں 7 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 31 سیکنڈ ہے۔

جو دور سے بھی نظر تجھ پہ یار ہم کرتےہزار جان گرامی نثار ہم کرتے

ترے خیال سے باتیں ہزار ہم کرتےغم فراق کو یوں خوش گوار ہم کرتے

ہوائے گل میں نہ پروائے خار ہم کرتےرہ طلب میں قدم استوار ہم کرتے

ابھی کچھ اور دم واپسیں ٹھہر جاتاکچھ اور بھی جو ترا انتظار ہم کرتے

وہ بار بار سزا جرم شوق پر دیتےمگر قصور وہی بار بار ہم کرتے

ترے ستم کی شکایت ضرورت کیا تھی ہمیںکہ شوق سے گلۂ روزگار ہم کرتے

غبار راہ محبت اگر کہیں ملتاتو اس کو تاج سر افتخار ہم کرتے

دلوں کی دشت تمنا میں تھی فراوانیوہ کہتے ہیں کہ کہاں تک شکار ہم کرتے

وہ وقت بھی کہیں آتا کہ عرض حال کے بعدتری جفا پہ تجھے شرمسار ہم کرتے

ترا خیال نہ دل سے کسی طرح جاتاتجھے نہ بھولتے کوشش ہزار ہم کرتے

جو نام آپ کا لیتے سکون غم کے لئےتو دل کو اور بھی کچھ بیقرار ہم کرتے

سمجھ کے چھوڑ دئے بے حساب آخر کارکہ دل کے داغ کہاں تک شمار ہم کرتے

ابھی سے تجھ پہ فدا ہو گئے تو غم کیا ہےکہ یہ وہی ہے جو پایان کار ہم کرتے

بڑا گناہ کیا ترک مے سے شک میں پڑےیقین رحمت آمرزگار ہم کرتے

عدو سے کیوں ہیں وہ راضی نہ کچھ کھلا حسرتؔکہ پھر طریق وہی اختیار ہم کرتے

— حسرت موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں