9 اشعار

سرگرمِ ناز آپ کی شانِ جفا ہے کیا

Sargarmi-e-naaz aap ki shaan-e-wafa hai kya

سرگرمِ ناز آپ کی شانِ جفا ہے کیا

«سرگرمِ ناز آپ کی شانِ جفا ہے کیا» حسرت موہانی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)» میں 7 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

سرگرمِ ناز آپ کی شانِ وَفا ہے کیاباقی ستم کا اور ابھی حوصلہ ہے کیا

آنکھیں تِری جو ہوشرُبائی میں ہیں فرواِن میں یہ سِحرکارئیِ رنگِ حنا ہے کیا

گر جوشِ آرزُو کی ہیں کیفیتیں یہیمَیں بُھول جاؤں گا کہ مِرا مُدّعا ہے کیا

آتے ہیں وہ خیال میں کیوں میرے بار بارعِشقِ خُدا نُما کی یہی اِبتدا ہے کیا

اِک برقِ مُضطرب ہے، کہ اِک سِحربیقرار!کُچھ پُوچھیے نہ، وہ نگہِ فِتنہ زا ہے کیا

اِس درجہ دِلپذیر ہے آہنگِ نغمہ کیوںپنہاں لباسِ درد میں تیری صدا ہے کیا

چل بھی دیے، وہ چِھین کے صبر و قرارِ دِل!ہم سوچتے ہی رہ گئے یہ ماجرا ہے کیا

نزدِیک بام یار سے ہے نَردبانِ عِشقاے دِل! یہ جائے حوصلہ ہے دیکھتا ہے کیا

حسرتؔ جفائے یار کو سمجھا جو تُو وَفاآئینِ اِشتیاق میں یہ بھی رَوا ہے کیا

— حسرت موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں