7 اشعار

تاباں جو نور حسن بہ سیمائے عشق ہے

Taban jo noor-e-husn ba seemaye ishq hai

تاباں جو نور حسن بہ سیمائے عشق ہے

«تاباں جو نور حسن بہ سیمائے عشق ہے» حسرت موہانی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)» میں 7 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

تاباں جو نور حسن بہ سیمائے عشق ہےکس درجہ دل پذیر تماشائے عشق ہے

ارباب ہوش جتنے ہیں بیمار عقل ہیںان کے لیے ضرور مداوائے عشق ہے

میں کیا ہوں ایک ذرۂ صحرائے اشتیاقدل کیا ہے ایک قطرۂ دریائے عشق ہے

شاہ و گدا کا فرق نہیں عہد حسن میںاب جس کو دیکھیے اسے دعوائے عشق ہے

ظاہر ہے بے قرارئ پیہم سے حال دلبے کار ہم کو دعوائے اخفائے عشق ہے

پنہاں حجاب ناز میں ہے صورت جمالپیدا حروف شوق سے معنائے عشق ہے

اے اہل عقل کیوں ہو اسے فکر نام و ننگحسرتؔ خراب عشق ہے رسوائے عشق ہے

— حسرت موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں