10 اشعار

گم گشتہ کسی خواب کے منظر سے نکل کر

Gum gashta kisi khwab ke manzar se nikal kar

گم گشتہ کسی خواب کے منظر سے نکل کر

«گم گشتہ کسی خواب کے منظر سے نکل کر» حسرت موہانی کا کلام ہے، جسے سحر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)» میں 7 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

گم گشتہ کسی خواب کے منظر سے نکل کرغزلوں میں ڈھلے لفظ سمندر سے نکل کر

کر دیتی ہے آباد مری آنکھوں کی دنیاحسرت تری تصویر کے اندر سے نکل کر

رشتوں کی تمازت سے ہوا جاتا ہوں صحراجاؤں تو کہاں جاؤں مقدر سے نکل کر

کہتے ہیں تو کہتے ہیں یہ تلوار کے آنسوبنتے نہیں غازی کبھی لشکر سے نکل کر

یہ جوگ تھا یا ہجر کی قوت تھی یا جادواک آہ غزل ہوگئی اندر سے نکل کر

سیراب مجھے کر گئی حیرت ہے مجھے بھیاک نفرتِ دل یار کے خنجر سے نکل کر

عزت بھی گئی مان گیا ٹوٹا بھروساآواز پہ اے عشق تری گھر سے نکل کر

دیوار کو سیلن زدہ کرتا رہا نوحہلٹکی ہوئی تصویرِ ستمگر سے نکل کر

بک جائیں گے اک روز یہ تقدیر کے آنسواٹھ باندھ کمر دوڑ لگا گھر سے نکل کر

یہ موجِ نسیمی ہے یہ ہو جائے گی تصویردیکھو گے اگر سوچ کے محور سے نکل کر

— حسرت موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں