9 اشعار

پیرو مسلک تسلیم و رضا ہوتے ہیں

Pairaw-e-maslak-e-tasleem-o-raza hote hain

پیرو مسلک تسلیم و رضا ہوتے ہیں

«پیرو مسلک تسلیم و رضا ہوتے ہیں» حسرت موہانی کا کلام ہے، جسے ابو لقمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)» میں 7 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 50 سیکنڈ ہے۔

پیرو مسلک تسلیم و رضا ہوتے ہیںہم تیری راہ محبت میں فنا ہوتے ہیں

شرم کر شرم کہ اے جذبۂ تاثیر وفاتیرے ہاتھوں وہ پشیمان جفا ہوتے ہیں

چھیڑتی ہے مجھے بیباکئ خواہش کیا کیاجب کبھی ہاتھ وہ پابند حنا ہوتے ہیں

نہ اثر آہ میں کچھ ہے نہ دعا میں تاثیرتیر ہم جتنے چلاتے ہیں خطا ہوتے ہیں

اہل دل سنتے ہیں اک ساز محبت کی نواہم تری یاد میں جب نغمہ سرا ہوتے ہیں

لذت درد نہ کیوں اہل ہوس پر ہو حرامکہ وہ کم بخت طلب گار دوا ہوتے ہیں

کشور عشق میں دنیا سے نرالا ہے رواجکام جو بن نہ پڑیں یاں وہ روا ہوتے ہیں

ہیچ ہم سمجھے دو عالم کو تو حیرت کیا ہےرتبے عشاق کے اس سے بھی سوا ہوتے ہیں

جسم ہوتا ہے جدا جان سے گویا حسرتؔآسماں ان سے چھڑاتا ہے جدا ہوتے ہیں

— حسرت موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں