7 اشعار

کیا تم کو علاج دل شیدا نہیں آتا

Kya tum ko ilaaj-e-dil-e-shaida nahin aata

کیا تم کو علاج دل شیدا نہیں آتا

«کیا تم کو علاج دل شیدا نہیں آتا» حسرت موہانی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)» میں 7 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

کیا تم کو علاج دل شیدا نہیں آتاآتا ہے پر اس طرح کہ گویا نہیں آتا

ہو جاتی تھی تسکین سو اب فرط الم سےاس بات کو روتے ہیں کہ رونا نہیں آتا

تم ہو کہ تمہیں وعدہ وفائی کی نہیں خومیں ہوں کہ مجھے تم سے تقاضا نہیں آتا

ہے پاس یہ کس کی نگہ محو حیا کالب تک جو مرے حرف تمنا نہیں آتا

ان کی نگہ مست کے جلوے ہیں نظر میںبھولے سے بھی ذکر مے و مینا نہیں آتا

شوخی سے وہ معنائے ستم پوچھ رہے ہیںاب لفظ جفا بھی انہیں گویا نہیں آتا

میں درد کی لذت سے رضامند ہوں حسرتؔمجھ کو ستم یار کا شکوا نہیں آتا

— حسرت موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں