5 اشعار

لگ ہی نہیں رہا ہے کہ سالوں سے دور ہیں

Lag hi nahin raha hai ke saalon se door hain

لگ ہی نہیں رہا ہے کہ سالوں سے دور ہیں

«لگ ہی نہیں رہا ہے کہ سالوں سے دور ہیں» ہمانشی بابرہ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 33 سیکنڈ ہے۔

لگ ہی نہیں رہا ہے کہ سالوں سے دور ہیںہم آج کل تمہارے خیالوں سے دور ہیں

اس کو کئی برس سے نہیں دیکھا دوستوںیعنی کئی برس سے اجالوں سے دور ہیں

اس روز تیرا سر مرے ہاتھوں سے دور تھایہ ہاتھ آج تک ترے بالوں سے دور ہیں

دیکھو ہمارے دل میں اجالے ہیں ہر طرفہم اس کے باوجود اجالوں سے دور ہیں

تو ہم کو اپنے چاہنے والوں میں جانیوہم لوگ تیرے چاہنے والوں سے دور ہیں

— ہمانشی بابرہ