23 اشعار

بارہواں کھلاڑی

Barahwan Khiladi

بارہواں کھلاڑی

«بارہواں کھلاڑی» افتخارعارف کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 45 سیکنڈ ہے۔

خوش گوار موسم میںان گنت تماشائی

اپنی اپنی ٹیموں کوداد دینے آتے ہیں

اپنے اپنے پیاروں کاحوصلہ بڑھاتے ہیں

میں الگ تھلگ سب سےبارہویں کھلاڑی کو

ہوٹ کرتا رہتا ہوںبارہواں کھلاڑی بھی

کیا عجب کھلاڑی ہےکھیل ہوتا رہتا ہے

شور مچتا رہتا ہےداد پڑتی رہتی ہے

اور وہ الگ سب سےانتظار کرتا ہے

ایک ایسی ساعت کاایک ایسے لمحے کا

جس میں سانحہ ہو جائےپھر وہ کھیلنے نکلے

تالیوں کے جھرمٹ میںایک جملۂ خوش کن

ایک نعرۂ تحسیناس کے نام پر ہو جائے

سب کھلاڑیوں کے ساتھوہ بھی معتبر ہو جائے

پر یہ کم ہی ہوتا ہےپھر بھی لوگ کہتے ہیں

کھیل سے کھلاڑی کاعمر بھر کا رشتہ ہے

عمر بھر کا یہ رشتہچھوٹ بھی تو سکتا ہے

آخری وسل کے ساتھڈوب جانے والا دل

ٹوٹ بھی تو سکتا ہےتم بھی افتخار عارف

بارہویں کھلاڑی ہوانتظار کرتے ہو

ایک ایسے لمحے کاایک ایسی ساعت کا

جس میں حادثہ ہو جائےجس میں سانحہ ہو جائے

تم بھی افتخار عارفتم بھی ڈوب جاؤ گے

تم بھی ٹوٹ جاؤ گے

— افتخارعارف

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں