5 اشعار

انہیں میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتے

Unhein Mein Jeete Unhein Bastiyon Mein Mar Rehte

انہیں میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتے

«انہیں میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتے» افتخارعارف کا کلام ہے، جسے وسیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

انہیں میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتےیہ چاہتے تھے مگر کس کے نام پر رہتے

پیمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیںہم ایسے کون خدا تھے کہ اپنے گھر رہتے

پرندے جاتے نہ جاتے پلٹ کے گھر اپنےپر اپنے ہم شجروں سے تو با خبر رہتے

بس ایک خاک کا احسان ہے کہ خیر سے ہیںوگرنہ صورت خاشاک در بہ در رہتے

مرے کریم جو تیری رضا مگر اس باربرس گزر گئے شاخوں کو بے ثمر رہتے

— افتخارعارف

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں