7 اشعار

سمجھ رہے ہیں مگر بولنے کا یارا نہیں

Samajh Rahe Hain Magar Bolne Ka Yaara Nahin

سمجھ رہے ہیں مگر بولنے کا یارا نہیں

«سمجھ رہے ہیں مگر بولنے کا یارا نہیں» افتخارعارف کا کلام ہے، جسے سجاد رضا نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

سمجھ رہے ہیں مگر بولنے کا یارا نہیںجو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیں

ابھی سے برف الجھنے لگی ہے بالوں سےابھی تو قرض مہ و سال بھی اتارا نہیں

بس ایک شام اسے آواز دی تھی ہجر کی شامپھر اس کے بعد اسے عمر بھر پکارا نہیں

ہوا کچھ ایسی چلی ہے کہ تیرے وحشی کومزاج پرسی باد صبا گوارا نہیں

سمندروں کو بھی حیرت ہوئی کہ ڈوبتے وقتکسی کو ہم نے مدد کے لیے پکارا نہیں

وہ ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سر بازارجو کہہ رہا تھا کہ بکنا ہمیں گوارا نہیں

ہم اہل دل ہیں محبت کی نسبتوں کے امینہمارے پاس زمینوں کا گوشوارہ نہیں

— افتخارعارف

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں