5 اشعار

اگرچہ عشق میں آفت ہے اور بلا بھی ہے

Agarche ishq mein aafat hai aur bala bhi hai

اگرچہ عشق میں آفت ہے اور بلا بھی ہے

«اگرچہ عشق میں آفت ہے اور بلا بھی ہے» انعام اللہ خاں یقین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

اگرچہ عشق میں آفت ہے اور بلا بھی ہےنرا برا نہیں یہ شغل کچھ بھلا بھی ہے

اس اشک و آہ میں سودا بگڑ نہ جائے کہیںیہ دل کچھ آب رسیدہ ہے کچھ جلا بھی ہے

یہ آرزو ہے کہ اس بے وفا سے یہ پوچھوںکہ میرے بے مزا رکھنے میں کچھ مزا بھی ہے

یہ کون ڈھب ہے سجن خاک میں ملانے کاکسو کا دل کبھو پانو تلے ملا بھی ہے

یقیںؔ کا شور جنوں سن کے یار نے پوچھاکوئی قبیلۂ مجنوں میں کیا رہا بھی ہے

— انعام اللہ خاں یقین