5 اشعار

تیری آنکھوں کی کیفیت کو میخانے سے کیا نسبت

Teri aankhon ki kaifiyat ko may-khane se kya nisbat

تیری آنکھوں کی کیفیت کو میخانے سے کیا نسبت

«تیری آنکھوں کی کیفیت کو میخانے سے کیا نسبت» انعام اللہ خاں یقین کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین» میں 4 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

تیری آنکھوں کی کیفیت کو میخانے سے کیا نسبتنگہ کی گردشوں کو دور پیمانے سے کیا نسبت

یہ جیوے ہجر میں وہ وصل میں بھی جی نہیں سکتاتکلف بر طرف بلبل کو پروانے سے کیا نسبت

یہ وہ موتی ہیں جن کی سیپیاں آنکھیں ہیں عاشق کیمرے آنسو کو مروارید کے دانے سے کیا نسبت

ارے دل مت توقع دلبروں سے رکھ ترحم کیلہو پیتے ہیں جو شخص ان کو غم کھانے سے کیا نسبت

گل اس کا داغ ہے اور سرو اس کا آہ موزوں ہےیقیںؔ سے نوحہ گر کو باغ میں جانے سے کیا نسبت

— انعام اللہ خاں یقین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں